Urdu Afsana yeh Hamari Muhabbat ka Imtehan hai

افسانہ: میں ایک شاعر سے محبت کرتی ہوں

“میں ایک شاعر سے محبت کرتی ہوں”

اُس کے یہ الفاط مجھ پر کسی بمب کی طرح گرے اور میں حیران و پریشان صرف اتنا ہی کہہ سکا “مگر؟”

میری بوکھلائی ہوئی شکل دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنسی۔

“مگر کیا؟ یہی نا کہ میں تو تم سے محبت کرتی ہوں؟

سو وہ تو پگلے میں کرتی ہوں اور ہمیشہ کرتی رہوں گی۔”

اس کے لہجے کی پختگی کو بالائے تاک رکھتے ہوئے میں سچ مچ اس کی بات کا مطلب ابھی تک نہیں سمجھ سکا تھا،

میرے چہرے پہ آتے جاتے ہزاروں رنگ دیکھ کر وہ محظوظ ہورہی تھی۔

پھر خاموشی کا قفل تورٹے ہوئے بولی:

“میں چاہتی ہوں، جسے میں چاہوں وہ ایک شاعر ہو۔ بس میرے دل میں یہ عجب سی شدید سے شدید تر اک خواہش ہے، جو تم سے آج کہہ دی۔

میں کچھ دیر یوںہی خاموش رہا اور پھر ایک زوردار قہقہہ لگا کر ہنس دیا، یہ سوچ کر کہ میں کیا سمجھ رہا تھا اور نکلا کیا۔

اب حیران ہونے کی باری اسکی تھی۔

“تم ہنسے کیوں؟”

“ایسے ہی”۔ میں نے اس کے چہرے کی حیرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے بات ٹالی اور کہا:

“آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو”

وہ کھوئی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی: “یہ تو تم روز ہی کہتے ہو”۔

اور کچھ سمجھ نہ آیا تو میں  بھی خاموش ہوگیا اور پھر یہ خاموشی پھیلتی ہی چلی گئی۔ اور یہی خاموشی میری زندگی میں طوفان لے آئی جب اس نے پرجوش آواز میں مجھ سے کہا: ” سنو جان! تم شاعر بن جاؤ!

میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ میں حیرانی سے اُسے تکتے ہوئے چلایا:” میں کیسے شاعر بن سکتا ہوں؟ پاگل ہوگئی ہو کیا؟”

“کیوں؟ کیوں نہیں بن سکتے؟ اتنا اچھا بولتے ہو۔ لفظ بھی بڑے اچھے چُنتے ہو۔ بس تھوڑی سی اور کوشش کرو تو اچھی خاصی شاعری بھی کرنے لگو۔

ہائے کتنا مزہ آئے گا جب میں سب سے کہوں گی کہ میرا محبوب ایک شاعر ہے۔

پلیز میری خاطر بن جاؤ نا۔ تمہیں میری قسم”

اس نے بانہیں میرے گلے میں ڈالتے ہوئے بڑے چاؤ سے کہا۔

“مگر پگلی جانتی ہو شاعر کیا ہوتا ہے؟ لہو اگلتا ہے۔ درد سہتا ہے۔ آنسو پیتا ہے۔ اور کچھ نہیں، بس جیتا ہے”

تم کیا سمجھتی ہو کہ داد وصول کرنے کے لئے لکھتا ہو شاعر؟

سننے والے تو بس ذرا سی داد دیتے ہیں۔ واہ واہ کرتے ہیں۔ کچھ احترام دیتے ہیں۔ کچھ ہمدردی جتاتے ہیں اور پھر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ اور پیچھے رہ جاتا ہے شاعر۔ تنہا اور اکیلا۔

شاعر کے اندر کچھ ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ کچھ چھُوٹ رہا ہوتا ہے۔ کوئی لوٹ رہا ہوتا ہے۔ اس درد کو۔ ہاں اسی درد کو جسے وہ لفظوں میں ڈھال کر شاعروں کی شکل دیتا ہے۔ اس درد کو کوئی محسوس نہیں کرتا۔ اور وہ اکیلا ہی تڑپتا رہتا ہے۔

اور تم چاہتی ہو میری زندگی بھی ویسی ہو جائے۔

اف اللہ بچائے ایسی زندگی سے۔

پلیز یار، ایسی باتیں مت کرو۔ ابھی ہماری منگنی ہوئے ہے۔ شادی کی بہت سی تیاریاں باقی ہیں اور تم یہ کیسی باتیں لے بیٹھی ہو۔ میں نے منت بھرے دھیمے لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

“پلیز پلیز! یہ کیسی محبت ہے تمہاری جو میری اتنی سی خواہش پوری نہیں کر پا رہی ۔ تمہیں میری قسم”!

اس نے باقائدہ زد کرتے ہوئے روہانسے لہجے میں کہا۔

“پر تم میری بات بھی تو سنو نا جان۔ تم بہت بھولی ہو۔ شاعر ایسے ہی نہیں بن جاتا کوئی۔ اس کے لیے بڑا حوصلہ چاہئے ہوتا ہے۔ جب تک کوئی چوٹ نہ کھائی ہو۔ کوئی درد نہ پالا ہو۔ کوئی محبوب ہرجائی نہ ہو۔ کوئی دریا بہایا نہ ہو۔ شاعر نہیں بنا جا سکتا۔

اور میری محبت ادھوری نہیں ہے۔ میرا کوئی محبوب ہرجائی نہیں ہے۔ میں کوئی چوٹ کھائی نہیں ہے تو میں کیسے شاعر بن جاؤں؟ ہماری شادی ہونے والی ہے اس لئے تم پلیز اس چیپٹر کو یہاں ہی کلوز کر دو۔ ابھی بہت کام باقی ہیں۔ میں نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے سمجھانے کی ایک اور کوشش کی”

اب اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ اس لیئے وہ بھی یہ سب سن کر صرف “اچھا” ہی کہہ سکی اور خاموش ہوگئی۔

ہم کافی دیر یونہی چلتے رہے پر آج پہلی بار سب کچھ عجیب عجیب لگ رہا تھا حالانکہ وہی پتے، وہی ہوائیں، وہی پھول، وہی شبنمی قبائیں وہی ڈگر وہی راہیں مگر یہ سب کچھ آج عجیب لگ رہا تھا کیونکہ وہ خاموش تھی۔ اور میں یہی سوچ رہا تھا کہ کیسی عجیب سی خواہش تھی اس پگلی کی۔ اور یہی سوچتے سوچتے شام بیت گئ۔

کچھ دنوں تک ہم اپنی زندگی میں مصروف رہے، ملاقات نہ ہوسکی اور پھر کچھ دنوں بعد اس کا خط ملا۔ خط کی پہلی سطر پڑھ کر میں مسکرایا اور بڑے انہماک سے پڑھنا شروع ہوا:

“جان سے پیارے !

محبت روح کا رشتہ ہے یہ تم ہی نے کہا تھا۔ میں تمہارے علاوہ کسی اور کو چاہ کر بھی نہ چاہ سکوں گی۔ یہ بھی سچ ہے۔

مگر میں کیا کروں۔ میں چاہتی ہوں، جسے میں چاہتی ہوں اس کا یعنی تمہارا نام ہو۔ مقام ہو۔ لوگ تمہارا ہی ذکر کریں۔ تم ایک شاعر ہو۔ “شاعر وقت” کے نام سے جانے جاؤ۔ اور میرا سر فخر سے بلند ہو جائے۔ میں بھی کہہ سکوں کہ دیکھو یہ شاعر وقت میری محبت ہے۔

میں نے اپنی تمہاری منگنی توڑ دی ہے۔ اگلے ماہ اپنے کزن سے میری شادی ہے۔(تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ انہیں کتنی جلدی تھی سو مییری ہاں کہ بعد انہوں نے ایک ہی ماۃ دیا۔۔۔۔)

خیر تم مجھ سے اور میں تم سے اب کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے۔ ہماری روحیں تو ایک دوسرے میں سما چکی ہیں تو پھر ہمیں کیا پرواۃ۔ کہیں پر بھی رہیں ہم تم۔ محبت تو پھر محبت ہے۔ تم میرے رہو گے اور میں تمہاری۔ ہیں نا؟

دیکھو جان، یوں سمجھ لو، ہماری محبت کا یہ امتحان ہے۔ اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ تمہیں تو چوٹ ہو چکی ہے۔ تمھاری بھی محبوبہ تمہیں چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اب تو ساری کنڈیشنز ہیں نا۔ اب تو تم شاعر بن سکتے ہو نا۔

ہیں نا؟

تو بس تمہیں میری قسم۔ اب انکار مت کرنا۔ بس شاعر بننا۔ “

سو آج میں ایک شاعر ہوں۔

لہو اگلتا ہوں، درد سہتا ہوں۔ آنسو پیتا ہوں اور کچھ نہیں”بس جیتا ہوں”۔

 

1 thought on “افسانہ: میں ایک شاعر سے محبت کرتی ہوں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *